اشاعتیں

Poor girl and rich man

  درجنوں ملازمین کام کرتے تھے اسکا گھر بھی کافی بڑا تھا اس میں بھی نوکر چاکر کام کرت تھے دن بھر وہ آفس میں کام کرتا اور شام گھر کو واپس آتا اسکا جو اپنا بیڈ روم تھا وہاں ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کی ڈیوٹی تھی جو صفائی کرتی تھی ایک دن وہ اتفاق سے وقت سے پہلے گھر آگیا جب یہ اپنے کمرے میں آیا اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکی کمرے کی صفائی کر رہی ہے اس نوجوان حسین و جمیل لڑکی کو دیکھ کر اسکی نیت خراب ہوگئی بس شیطان نے اسکے دل میں خیال ڈالا کہ میں اس لڑکی کو کمرے میں ہی روک لوں تو اسکی آواز کسی تک نہیں جائے گی اگر باہر جاکر اسنے کسی کو بتایا بھی تو کوئی اسکی بات نہیں مانے گا میں تو پورے پولیس اسٹیشن خرید سکتا ہوں ملازمین سب میری بات مانیں گے لڑکی نے دیکھا کہ آج مالک وقت سے پہلے گھر آگئے ہیں تو اس نے جیسے ہی جلدی سے کام ختم کرکے جانا چاہا تو مالک نے ایک زوردار آواز میں کہا ٹھہر جائو وہ لڑکی مالک کے تیور دیکھ کر گھبرا گئی مالک نے کہا کہ سب کھڑکیاں اور دروازے بند کردو یہ سن کر لڑکی پریشان ہوگئی کہ میں کروں تو کیا کروں لیکن اسکے دل میں تقوی گھا اللہ کا خوف تھا اسکے آنسو بہہ رہے ہی...

Interesting Urdu story about a girl who marries her ex- boyfriend

👇👇👹👇👸   Urdu stories points جانیے ایک ایسی لڑکی کے بارے میں جس نے اپنے شوہر سے طلاق لینے کے بعد اپنے سابقہ بوائے فرینڈ سے شادی کی۔  ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایملی نام کی ایک نوجوان لڑکی جس کا تعلق امریکہ سے تھا ایملی امریکہ کے ایک ہائی اسکول جاتی تھی  ایملی اپنے ہائی اسکول کے پیارے جیک سے دیوانہ وار محبت کرتی تھی انہوں نے اپنی نوعمری کے دوران ڈیٹ کیا اور یہاں تک کہ ایک ساتھ ایک ہی کالج میں گئے  کالج کے بعد، جیک نے ایملی کو شادی کےلیے پرپوز کیا اور اس نے خوشی سے قبول کر لیا  ان دونوں کی شادی ایک خوبصورت بیرونی تقریب میں ہوئی تھی جس میں ان کے قریبی دوستوں اور خاندان والوں نے شرکت کی تھی. ایملی زیادہ خوش تھی اس نے ہمیشہ جیک کے ساتھ اپنی باقی زندگی گزارنے کا خواب دیکھا تھا  تاہم، جیسے جیسے سال گزرتے گئے، ایملی کو یہ احساس ہونے لگا کہ وہ اور جیک اتنے مطابقت نہیں رکھتے جیسا کہ اس نے پہلے سوچا تھا ان کی زندگی میں مختلف مقاصد اور خواہشات تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ وہ مسلسل ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ان کی بہترین کوششوں کے باوجود، ایملی اور جیک اپنی شادی کو کام کرن...

Pachtawe Ki Aag

تصویر
کیا سوچ رہے ہیں میاں صاحب فرزانہ نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے اپنے شوہر انور میاں کو مخاطب کیا۔ ہم کچھ نہیں۔“ میاں صاحب ہڑبڑا کر سیدھے ہو بیٹھے۔ کچھ تو سوچ رہے ہیں بلکہ کسی بہت گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آپ کا پسندیدہ ٹاک شو چل رہا ہے اور آپ کا دھیان کہیں اور ہے ۔ فرزانہ کھو جتی نگاہیں ان پر مرکوز کئے ہوئے تھی۔ میاں صاحب کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہوئیں۔ انہوں نے ، پہلو میں دھرا ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کیا اور پیالی تھام لی۔ باجی کا فون آیا تھا۔ انہوں نے آہستگی سے کہہ کر پیالی لبوں سے لگالی۔ تو اس میں سوچوں میں غرق ہونے والی کون سی بات ہے .. باجی کا فون تھا، پرائم منسٹر کا تو نہیں ! وہ استہزائی ہنسی ہنتے ہوئے سامنے صوفے پر براجمان ہو گئی۔ مومی باجی ہماری منال کا ہاتھ مانگ رہی ہیں۔ اپنے ارحم کے لئے ۔ “ تفکر آمیز لہجے میں بتایا گیا۔ کیا پھر کیا جواب دیا آپ نے … فرزانہ آنکھیں پھاڑے پوچھ رہی تھی۔ جواب کیا دینا تھا، سوچنے کا وقت مانگا ہے۔“ وہ منمنائے۔ سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فور اسے بیشتر جواب دے دینا تھا۔ اللہ مغفرت فرمائے، آپ کی اماں مرحومہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ مومی بہت ڈاڈی ساس ...